بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کے بعد عدت کی مدت

سوال

طلاق کے بعد عورت کی عدت کتنی ہوتی ہے؟

جواب

      نکاح کے بعد رخصتی یا خلوتِ صحیحہ ہوچکی ہو تو طلاق کے بعد عدت مکمل تین ماہواریاں گزرنا ہے، بشرط یہ کہ عدت گزارنے والی خاتون امید سے نہ ہو، اگر وہ امید سے ہے تو اس کی عدت وضع حمل (بچے کی پیدائش تک) ہوگی۔ اگر نکاح کے بعد رخصتی یا خلوتِ صحیحہ نہ ہوئی ہو تو طلاق کے بعد عدت نہیں ہے۔

تحفة الفقہاء میں ہے:

"وأما عدة الطلاق فثلاثة قروء في حق ذوات الأقراء إذا كانت حرة .....وأما في حق الحامل فعدتها وضع الحمل لا خلاف في المطلقة لظاهر قوله: {وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن }."

(كتاب الطلاق، باب العدة ،2/ 244، 245،،ط. دار الكتب العلمية )

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507101459
تاریخ28-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں