بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سونے کی زکات ادا کرتے وقت کس قیمت کا اعتبار کیا جائے گا؟

سوال

زکات کا حساب کرتے وقت سونے کی قیمت 21 کیرٹ کے حساب سے ہوگئی یا 22 کیرٹ کے حساب سے؟  کیوں کہ بعض دکانداروں سے سنا تھا کہ جو زیورات ہم بنا کر فروخت کرتے ہیں وہ 21 کیرٹ  کے ہوتے ہیں لیکن ہم 22 کیرٹ  کے حساب سے دیتے ہیں ۔

جواب

واضح رہے کہ سونا  کی زکات اگر  نقدی کی صورت میں دی جائے تو اس کی قیمتِ فروخت کا اعتبار کیا جائے گا، یعنی جس قیمت پر صراف خریدے گا اسی قیمت کے حساب سے زکوۃ واجب ہوگی،لہذا صورتِ مسئولہ میں  21 کیرٹ کے حساب سے فروخت کیے گئے زیورات کی رقم پر زکوۃ واجب ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

" (والمعتبر وزنهما أداءً ووجوباً) لا قيمتهما.

 (قوله: والمعتبر وزنهما أداءً) أي من حيث الأداء، يعني يعتبر أن يكون المؤدى قدر الواجب وزناً عند الإمام والثاني ...... وأجمعوا أنه لو أدى من خلاف جنسه اعتبرت القيمة."

( ج:2،  ص:297، ط:سعید)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

’’سونا اور چاندی دونوں وزنی چیز ہیں، ان میں نصاب اور ادائے زکاۃ میں ہر دو کے لیے وزن کا اعتبار ہوگا،قیمت کا اعتبار نہیں ہوتا ۔۔۔  تو ادا کرتے وقت جو قیمت قدرِ زکاۃ کی ہو اس کی کوئی  اور شے دے دی جائے۔۔۔‘‘الخ

(ج :9، ص:379، ط:فاروقیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507101392
تاریخ27-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں