بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

منگنی کے بعد منگیتر سے اگر میل جول رہا ہو تو نکاح کا کیا حکم ہے؟

سوال

فاطمہ کی منگنی زید سے ہوئی، منگنی کے بعد زید اور فاطمہ موبائل پر باتیں کرتے تھے، اور ایک دوسرے سے بوس وکنار بھی کرچکے ہیں، کیا ان کا آپس میں نکاح درست ہے؟

جواب

منگنی  چونکہ نکاح کا وعدہ ہے، نکاح نہیں، منگنی  کے بعد  منگیتر   بھی دیگر اجنبی لڑکیوں کی طرح نامحرم  ہے،اس لیے مذکورہ صورت  میں زید کا  اپنی  منگیتر فاطمہ کے ساتھ  بات چیت کرنا، ملنا جلنا اور بوس و کنار کرنا ناجائز تھا،  تاہم اب اگر   زید اور فاطمہ  کا آپس میں  نکاح  ہوجائے تو یہ نکاح درست ہوگا۔

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"وفي مجموع النوازل إذا ‌تزوج ‌امرأة ‌قد ‌زنى هو بها وظهر بها حبل فالنكاح جائز عند الكل وله أن يطأها عند الكل وتستحق النفقة عند الكل، كذا في الذخيرة."

(كتاب النكاح، ج: 1، ص: 280، ط: دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"ولايكلم الأجنبية إلا عجوزاً عطست أو سلّمت فيشمتها و يرد السلام عليها، وإلا لا۔ انتهى."

(قوله: وإلا لا) أي وإلا تكن عجوزاً بل شابةً لا يشمّتها، ولا يرد السلام بلسانه۔ قال في الخانية: وكذا الرجل مع المرأة إذا التقيا يسلّم الرجل أولاً، وإذا سلّمت المرأة الأجنبية على رجل إن كانت عجوزاً رد الرجل عليها السلام بلسانه بصوت تسمع، وإن كانت شابةً رد عليها في نفسه، وكذا الرجل إذا سلّم على امرأة أجنبية، فالجواب فيه على العكس. اهـ."

(کتاب الحظر والإباحة، ج:6،ص:369،ط: سعيد)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507101369
تاریخ27-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں