بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مدرسہ کی کتب گھر پر رکھنا

سوال

اس مسئلہ کے بارے میں شریعت میں کیا حکم  ہے کہ مدرسہ کی کتابوں کو لے کر گھر میں  رکھ سکتا ہوں؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر مدرسہ کی کتابیں مدرسے کے لیے وقف ہیں، اور واقفین کی جانب سے مدرسہ سے باہر لے جانے کی اجازت نہیں تو مدرسہ سے باہر گھر  لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی، اور اگر واقفین کی جانب سے گھر لے جانے کی اجازت ہے، تو اس صورت میں مدرسہ کی انتظامیہ کی اجازت سے گھر لے جانے کی اجازت ہوگی۔ 

 فتاوی شامی میں ہے:

"شرط الواقف كنص الشارع، أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به."

( کتاب الوقف،433/4، ط: سعید)

وفيه أيضاً:

"صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة."

( کتاب الوقف، مطلب مراعاۃ غرض الواقفین واجب، 445/4، ط:سعيد)

البحرالرائق میں ہے:

"وجوب اتباع ‌شرط ‌الواقف على الناظر."

(كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة، دفع الزكاة بتحر فبان أنه غني أو هاشمي أو كافر أو أبوه أو ابنه،266/2، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507101299
تاریخ26-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں