بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کا مسجد کے گھر میں شادی شدہ بچوں کے ساتھ رہنا

سوال

ایک عالم جو کسی مسجد میں امام ہے اور اہلِ محلہ  کی طرف سے ان کو رہائش کے لیے گھر دیاگیاہے، اس کے پانچ بیٹے ہیں ، ان میں سے تین شادی شدہ ہیں،ان میں سے ایک  طالب علم ہے، ایک بیٹاکہیں  پڑھاتاہے ،جب کہ ایک اسی مسجد میں فیس لے کر    پڑھاتاہے اور  امام صاحب کبھی نہ ہو  تو نمازیں بھی پڑھاتاہے،  اس کے علاوہ امام صاحب کے دو بیٹے غیر شادی شدہ ہیں،ان میں ایک  طالب علم اور ایک اسی مسجد میں مؤذن ہے،آپ حضرات سے اس  سلسلے میں  سوال یہ ہے کہ ان میں سے کس کو امام  اپنے ساتھ رہائش کے طورپر رکھ سکتے ہیں ؟ یہ واضح رہے کہ محلے والوں کی طرف سے  کوئی شکایت نہیں اور اس میں امام سمیت بچوں  کی رہائش کی بھی اجازت انہوں نے دی ہیں۔

نوٹ: بڑے لڑکوں کا خرچ الگ ہے، لیکن گیس اور پانی ،بجلی مسجد کا استعمال ہورہاہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب امام صاحب کو  اہلِ محلہ کی طر ف سے رہائش کے لیے گھر ملاہےاور کمیٹی والوں نے امام صاحب کے ساتھ بچوں  کو بھی رہائش  کی اجازت دی ہے تو امام صاحب  اپنے تمام بیٹوں  کو ساتھ رکھ سکتے ہیں۔

 بخاری شریف میں ہے:

"وقال النبي صلى الله عليه وسلم: "المسلمون ‌عند ‌شروطهم."

(ج:2،ص:794،ط:داراليمامة دمشق )

فتاویٰ شامی میں ہے:

"صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة."

(كتاب الوقف، مطلب في المصادقة على النظر، ج:4، ص: 445، ط: سعيد)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507101220
تاریخ25-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں