بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسنون دعاؤں کی کتاب بیت الخلاء لے جانے کا حکم

سوال

 مسنون دعاؤں کی کتاب جیب میں رکھ کر بیت الخلاء جاسکتے ہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر مسنون دعاؤں کی کتاب کسی غلاف وغیرہ میں ڈھکی ہوئی ہو تو جائز ہوگا البتہ نہ لے جانا افضل ہوگا اور اگر غلاف میں ڈھکی ہوئی  نہ ہو تو اس سے بیت الخلاء میں ساتھ لے جانا جائز نہیں ہے۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"رقیة فی غلاف متجاف لم یکرہ دخول الخلاء به، والاحتراز أفضل.... (قولہ: رقیة إلخ) الظاهر أن المراد بها ما یسمونه الآن بالهیکل والحمائلی المشتمل علی الآیات القرآنیة، فإذا کان غلافه منفصلا عنه کالمشمع ونحوہ جاز دخول الخلاء به ومسه وحمله للجنب".

(كتاب الطهارة، ج: ۱، صفحہ: ۱۷۸، ط: ایچ، ایم، سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507101209
تاریخ25-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں