بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ملازم کے بینک میں رکھے ہوئے پیسوں پر اضافی رقم ملنے کا حکم

سوال

میں گورنمنٹ کا  ملازم ہوں، بینک نے سال کے اختتام پر میری بینک میں پڑی ہوئی رقم سے کچھ ہزار اضافی دے دیے، کیا یہ جائز ہے، اگر نہیں تو میں اس رقم کا کیا کروں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کی بینک میں رکھی  ہوئی رقم  پر جواضافی رقم  ملی ہے وہ سود ہے، اس کا لینا جائز نہیں ہے ، اگر  لے لی ہو تو فقراء پر بلا نیت ثواب صدقہ کرنا ضروری ہے، خود اس کا استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا."

(‌‌كتاب البيوع، فصل فی القرض ،مطلب كل قرض  جر نفعا حرام، ج:5، ص:165، ط:سعيد)

الاختیار لتعلیل المختار میں ہے:

"والملك الخبيث ‌سبيله ‌التصدق به، ولو صرفه في حاجة نفسه جاز. ثم إن كان غنيا تصدق بمثله، وإن كان فقيرا لا يتصدق."

(كتاب  الغصب ،ج:3، ص:61،  ط:دارالفكر)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507101111
تاریخ24-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں