بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر قانونی بیرون ملک جا کر کمائی کا حکم

سوال

 جو لوگ بغیر ملکی اجازت کے   ڈنکی لگا کر دوسرے ممالک جاتے ہیں، ان کی آمدنی کا کیا حکم شرع ہے ؟ رہنمائی فرمایے گا۔

وضاحت: ڈنکی سے مراد غیر قانونی طور پر دوسرے ملک جانا ہے۔

جواب

جو  لوگ نوکریوں کی تلاش میں غیرقانونی طریقہ سے بیرون ملک جاتے ہیں ،ان  کا یہ عمل قانوناًدرست نہیں ہے ، کیوں کہ اس میں اپنے آپ کو قید و بند کی صعوبتوں اور تذلیل کی طرف دھکیلنا ہے، البتہ بیرون ملک جا کر حلال ذرائع  اور حلال طریقہ سے جو وہ آمدن کماتے ہیں وہ ان کے لیے حلال ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ومنها أن يكون مقدور الاستيفاء - حقيقة أو شرعا فلا يجوز استئجار الآبق ولا الاستئجار على المعاصي؛ لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا. ومنها أن لا يكون العمل المستأجر له فرضا ولا واجبا على الأجير قبل الإجارة فإن كان فرضا أو واجبا قبلها لم يصح. ومنها أن تكون المنفعة مقصودة معتادا استيفاؤها بعقد الإجارة ولا يجري بها التعامل بين الناس فلا يجوز استئجار الأشجار لتجفيف الثياب عليها."

(کتاب الاجارۃ، ج نمبر ۴، ص نمبر ۴۱۱،دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507101098
تاریخ24-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں