بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فوت شدہ نمازوں میں فرض ووتر کی قضاء کرنا لازم ہے

سوال

قضا نماز پوری پڑھنے کا حکم ہے یا صرف فرض؟

جواب

 واضح رہے کہ قضا کا حکم صرف فرض نمازوں اور وتر میں ہے، فوت شدہ نمازوں کے سنن ونوافل  کی قضا لازم نہیں ہے۔ 

البتہ اگر فجر کی نماز قضا ہو اور اسی دن زوال سے پہلے پہلے قضا کی جارہی ہو تو فجر کے فرض کے ساتھ سنت بھی پڑھنی چاہیے۔

"(وقضاء الفرض والواجب والسنة فرض وواجب وسنة) لف ونشر مرتب، وجميع أوقات العمر وقت للقضاء إلا الثلاثة المنهية". 

(کتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ج:2، ص:66، ط:سعيد)

وفیہ ایضاً:

"(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر)".

(كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائف، ج:2، ص:72، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507101084
تاریخ23-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں