بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کو لقمہ دینے سے سجدہ سہو لازم نہیں آتا

سوال

جماعت کی نماز میں قرات کے دوران امام کو غلطی بتانے پر کیا سجدہ سہو واجب ہوتا ہے کہ نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں امام کو لقمہ دینے سے مقتدی پر سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(بخلاف فتحه على إمامه) فإنه لا يفسد (مطلقا) لفاتح وآخذ بكل حال".

(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، 622/1، ط: سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولا يجب السجود إلا بترك واجب أو تأخيره أو تأخير ركن أو تقديمه أو تكراره أو تغيير واجب بأن يجهر فيما يخافت وفي الحقيقة وجوبه بشيء واحد وهو ترك الواجب".

(كتاب الصلاة، الباب الثاني عشر في سجود السهو، 126/1، ط: رشيدية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507101046
تاریخ23-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں