بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چار رکعت والی نماز میں پانچویں رکعت کے لیے کھڑا ہوجانے کی صورت میں نماز کا حکم

سوال

ایک شخص ظہر کی نماز پڑھا رہا تھا ،اس کو شک ہوا کہ تین رکعت پڑھی یا چار، وہ چوتھی رکعت پر اٹھ کھڑا ہوا ،جب کہ اس کو قعدہ اخیرہ کے لیے  بیٹھنا چاہیے  تھا،کچھ نمازی بچوں نے اللہ اکبر بھی کہا ،لیکن یہ شخص شک میں تھا کہ یہ اب چوتھی رکعت ہے ،اس نے نماز مکمل کی آخر میں سجدہ سہو بھی کر گیا ،کیا اس کی نماز صحیح ہوئی یا نہیں؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں  مذکورہ شخص نے  چوتھی رکعت پر قعدہ  نہیں کیا اور  پانچویں رکعت کے لیے کھڑا ہوگیا تو پانچویں رکعت کو چوتھی رکعت سمجھ کر اس نے نماز مکمل کی  تو اب اس کی فرض نماز باطل ہوگئی اگرچہ اس نے آخر میں سجدہ سہو بھی کیا ،  اب اس نماز کا اعادہ کرنا لازم ہے۔ 

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وإن لم يقعد على رأس الرابعة حتى قام إلى الخامسة إن تذكر قبل أن يقيد الخامسة بالسجدة عاد إلى القعدة، هكذا في المحيط. وفي الخلاصة: ويتشهد ويسلم ويسجد للسهو، كذا في التتارخانية. وإن قيد الخامسة بالسجدة فسد ظهره عندنا، كذا في المحيط".

(کتاب الصلاۃ،الباب الثانی عشر فی سجود السہو،ج:1،ص:129،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507101029
تاریخ23-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں