بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نعت خوانی پر اجرت لینے کا حکم

سوال

آج کل جو لوگ نعت کہنے کو پروفیشن بناتے ہیں  یعنی نعت کہنے پر اجرت لیتے ہیں، اس کا کیا  حکم ہے؟ اور اگر نعت سکھانے پر اجرت لیتا ہے تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب

  اگر کسی نعت خواں نے خود کو  نعت خوانی کے لیے فارغ کیا ہوا ہے  تو اس کے لیے اجرت لینا جائز ہے، اسی طرح نعت خوانی اجرت لے کر  سکھانا بھی جائز ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"في الأصل لا يجوز ‌الاستئجار ‌على ‌الطاعات كتعليم القرآن والفقه والأذان والتذكير والتدريس والحج والعمرة ولا يجب الأجر. كذا في الخلاصة....

وبه يفتى وكذا جواز الاستئجار على تعليم الفقه ونحوه والمختار للفتوى ‌في ‌زماننا قول هؤلاء. كذا في الفتاوى العتابية."

(ج:4، ص:448، ط:رشیدیہ)

امداد الفتاوی میں ہے:

"اگر وعظ  کی نوکری کر لی مثل امامت کے، تو اجرت لینا جائز ہے۔ اور اگر نوکری نہیں ہے،  عین وقت پر وعظ پر اجرت کی شرط کرے تو جائز نہیں،  جیسے عین وقت میں امامت پر اجرت مانگنے لگے ۔"

(کتاب الاجارۃ، ج:3، ص:389، ط:دار العلوم)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507100932
تاریخ22-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں