بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اذان نام ركهنا

سوال

 کیا ہم بچہ کا نام اذان رکھ سکتا ہے ؟

جواب

صورت مسؤلہ میں "اَذَان" کامعنٰی ہے: اعلان/ پنج وقتہ نماز کے اعلان کے مخصوص کلمات۔ نام کے بارے میں شریعت مطہرہ کی تعلیم یہ ہے کہ بچہ  / بچی کا ایسا نام رکھا جائے جو ذو معنی ہو ،اچھا نام ہو ، اس لیے  کہ نام کا شخصیت پر اثر ہوتا ہے ،لہذا جس طرح  بچہ / بچی کا نام صلوۃ ،صوم ،حج وغیرہ نہیں رکھا جاتا ،اسی طرح اذان نام رکھنے  سے بھی احتراز کیا جائے۔ اور ناموں کے سلسلے میں بہتر یہ ہے کہ اپنے بچوں کے نام انبیاء کرام علیہم السلام یا صحابہ کے نام پر رکھے جائیں،لہذا اگر مذکورہ نام کی جگہ  انبیاء کرام علیہم السلام یا صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم کے ناموں میں سے کوئی  نام منتخب کرليا جائے۔

مسند أحمدمیں ہے: 

"حدثنا عفان، حدثنا هشيم، أخبرنا داود بن عمرو، عن عبد الله بن أبي زكريا الخزاعي، عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ‌إنكم ‌تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم، فأحسنوا  أسماءكم ".

(‌‌تتمة مسند الأنصار،٢٣/٣٦،ط : مؤسسة الرسالة)

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144507100930
تاریخ22-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں