بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں کوئی واجب بھولے سے رہ جائے

سوال

نماز میں کوئی واجب بھولے سے رہ جائے تو کیا حکم ہے؟

جواب

اگر کسی شخص نے نماز پڑھی اور  نماز میں بھولے سے کوئی واجب رہ گیا تو اس پر لازم ہے کہ وہ نماز کے آخر میں سجدۂ سہو کرلے، اگر وہ سجدۂ سہو  نہ کرے تو وقت کے اندر اس نماز کو لوٹانا واجب ہوگا۔

مزید تفصیل کے لیے صورتِ مسئولہ کو وضاحت کےساتھ  لکھ کر دوبارہ سوال بھیجیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولها واجبات) لاتفسد بتركها وتعاد وجوبا في العمد والسهو إن لم يسجد له، وإن لم يعدها يكون فاسقا آثما وكذا كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تجب إعادتها."

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب صفة الصلاة، ج:١، ص:٤٥٦-٤٥٧، ط:سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507100859
تاریخ21-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں