بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دل میں طلاق کی نیت کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی

سوال

اگر کسی انسان نے اپنی بیوی سے الگ ہونے کی نیت کی اور اس میں طلاق کی نیت کی، لیکن ایک اور دو کا کوئی تذکرہ اور تبصرہ اس میں نہیں، تو اس صورت میں اس کی بیوی کو کون سی طلاق ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ طلاق محض نیت کرنے یا سوچنے سے نہیں ہوتی لہذا کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل: موسوس؛ لأنه يحدث بما في ضميره. وعن الليث: لا يجوز طلاق الموسوس."

(‌‌‌‌كتاب الجهاد، باب المرتد، ٤/ ٢٢٤، ط: سعید)

وفيه أيضاً:

"(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر ... وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره."

(كتاب الطلاق،  ٣/ ٢٣٠، ط: سعيد)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507100799
تاریخ21-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں