بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

داماد کا اپنی ساس کی وراثت سے حصہ مانگنا

سوال

 میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ،ورثاء  میں ایک بیوہ ایک بیٹا اور سات بیٹیاں ہیں، والد مرحوم کی وراثت ورثاء میں تقسیم ہو گئی، والدہ کا حصہ والدہ کے نام پر، بیٹے کا حصہ بیٹے کے نام پر، اور بیٹیوں کا حصہ بیٹیوں کے نام پر منتقل ہو گیا، میری والدہ نے اپنی زندگی میں اپنے حصے کا قبضہ مجھے یعنی اپنے بیٹے کو دے دیا تھا،اور میری  سات   بہنوں کو کہا کہ میں اپنا حصہ اپنے بیٹے کو دیتی  ہوں، اب میرے حصے کا مالک میرا بیٹا ہے، تب سے اب تلک والدہ کا حصہ میرے ملکیت میں ہے، اور اس سے جو بھی آمدن آتی ہے اسے میں ہی رکھتا ہے، میری والدہ کے انتقال کے بعد میری ساتوں بہنیں والدہ مرحومہ کی کہنے کے مطابق اس بات کو مانتی ہیں کہ والدہ کا حصہ ہمارے بھائی کا ہے، کیوں کہ والدہ نے اپنی زندگی میں ہی بھائی کو دے کر مالک بنا دیا تھا، البتہ میرا ایک بہنوئی والدہ کے اس تصرف  سے انکار کرتا ہے،اور کہتا ہےمیں اس  کو میں نہیں مانتا، اور مجھے ساس کے حصے سے بھی حصہ چاہیے۔

برائے مہربانی راہ نمائی فرمائیں کہ میں اپنی والدہ کے حصے کا حقدار ہوں یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی  سائل کی والدہ نے  اپنی زندگی میں ہی اپنا حصہ سائل کو دے دیا تھا تو یہ  شرعاً ہبہ ( گفٹ) کے حکم میں ہے، جوکہ سائل کو  مالکانہ قبضہ  و تصرف دینے سے ہبہ مکمل ہو گیا ہے ، وہ  جائیداد والدہ کی ملکت سے نکل کر سائل کی ملکیت میں داخل ہوگئی ہے،چناں چہ اب اُس مذکورہ جائیداد میں سائل  کے باقی بھائی  بہنوں اور بہنوئی کا حصہ نہیں بنتا،نیز شرعاً  ساس کی وراثت میں داماد کا  حصہ ہوتا بھی نہیں ۔

لہذا سائل  کے بہنوئی کا اپنی ساس کے ترکہ  میں سے حصہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل."

(كتاب الهبة، ج: 5، ص:690،  ط : سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

‌"ويستحق ‌الإرث بإحدى خصال ثلاث: بالنسب وهو القرابة، والسبب وهو الزوجية، والولاء."

(كتاب الفرائض، ج:6، ص:447، ط:دار الفكر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144507100734
تاریخ20-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں