بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عیسائیوں کے اسکول میں پڑھانا

سوال

مجھے ایک  اسکول سے پڑھا نے کی آفر آئی ہے،  لیکن اس اسکول میں سارا پیسہ عیسائیوں کے ٹرسٹ سے آتا ہے،  کیا اس اسکول میں میرے لیے پڑھانا جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ  اسکول میں پڑھانا پسندیدہ نہیں،  لہذا  دوسری جگہ ملازمت   تلاش کرنی چاہیے، تاہم اگر سائلہ تنگ دست ہو اور گزر بسر کا انتظام نہ ہو تو ایسی صورت میں  جب تک دوسری جگہ ملازمت نہیں مل جاتی اس وقت تک مذکورہ اسکول میں  پڑھانے کی گنجائش ہے ۔

باقی عیسائیوں کے ٹرسٹ سے چلنے والے مذکورہ اسکول  میں رائج تعلیمی نصاب یعنی اسکول میں  پڑھائی جانے والی کتب کا مدار اگر خلافِ شریعت  ہو،  تو ایسے اسکول میں پڑھانا قطعاً جائز نہیں ہوگا۔

خلاصۃ الفتاوٰی میں ہے :

"المسلم إذا آجر نفسه من الكافر ليخدمه جاز ويكره ،قال الفضلي:لا يجوز في الخدمة وما فيه إضلال."

( کتاب الاجارات،ج:3،ص:149،رشیدیہ)

فتاوی شامی میں ہے:

"وما كان سببا لمحظور ‌فهو ‌محظور اهـ."

(ج:6، ص:350، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507100712
تاریخ20-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں