بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ولادت کےبعد جماع نہ ہونے کی صورت میں طلاق کے بعدعدت گزارنا لازم ہے؟

سوال

ساجد کی بیوی حمل سے تھی،  اور وہ اسی دوران بیرونی ملک کمانے کے لیے چلا گیا ،پھر جب بچہ پیدا ہو گیا، تو اس کے دو ماہ بعد اپنی بیوی کو فون پر ہی اس نے طلاق دے دی، جب کہ اس دوران ان کے درمیان صحبت نہیں ہوئی،  تو کیا اب اس کی بیوی پر عدت لاگو ہوگی یا نہیں؟اگر ہوگی تو کتنے ایام کی عدت اس پر لاگو ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں طلاق ہونے کی صورت میں ساجد کی بیوی پر عدت گزارنا لازم ہے، اور اس کی عدت تین ماہواریاں ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما بيان مقادير العدة، وما تنقضي به، فأما عدة الأقراء فإن كانت المرأة حرة فعدتها ثلاثة قروء لقوله تعالى {والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء} [البقرة: 228] ، وسواء وجبت بالفرقة في النكاح الصحيح أو بالفرقة في النكاح الفاسد أو بالوطء عن شبهة النكاح."

(كتاب الطلاق، فصل في بيان مقادير العدة وما تنقضي به، ١٩٣/٣، ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507100657
تاریخ20-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں