بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے نام پر اکاؤنٹ کھولنے کا حکم

سوال

مسجد کے نام پر بینک میں اکاونٹ کھول سکتے ہیں؟ سیونگ یا کرنٹ، ایم سی بی بینک ہے؟

جواب

 واضح رہےکہ بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا جائز نہیں ہے ؛اس لیے کہ اس  میں  سودی معاہدہ کرنا پڑتاہے، اور  سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھوانے پر بینک کی طرف سے جو منافع ملتا ہے وہ سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے؛ لہذا مسجد کے نام پر  سیونگ اکاؤنٹ کھولنا جائز نہیں ہے ،البتہ اگر  مسجد کی رقم سنبھالنے میں مشکلات ہوں تو   ضرورت کی بناء پرصرف کرنٹ اکاؤنٹ کھولنے کی گنجائش ہے۔

درر الحکام میں ہے :

"لأن الثابت بالضرورة ‌يتقدر ‌بقدرها".

(باب الاعتکاف،ج:1،ص:213،داراحیاء الکتب العربیۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507100625
تاریخ18-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں