بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لڑکی کا نام عروہ رکھنا

سوال

بیٹی کا نام "عُروۃ"رکھنا کیسا ہے ؟جس کی پیدائش 27 دسمبر بروز بدھ ہوئی ہے۔

جواب

واضح رہے کہ تاریخ کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ "عروہ" جس طرح صحابی کا نام ہے، اسی طرح عروہ بعض عورتوں کا بھی نام تھا؛ لہذا یہ نام لڑکے یا لڑکی، دونوں ہی کے لیے رکھا جاسکتا ہے۔

الوفیات میں ہے:

عروة بن حزام أحد متيمي العرب، ومن قتله الغرام ومات عشقًا في حدود الثلاثين في خلافة عثمان بن عفان رضي الله عنه، وهو صاحب عفراء التي كان  يهواها، وكانت عفراء تربًا لعروة بنت عمه يلعبان معًا۔

الوفيات (19 / 357)

لہذا صورتِ مسئولہ میں  بچی نام "عُروۃ" رکھنا درست ہے ،باقی نام رکھنے میں دن ،تاریخِ پیدائش اور  وقت وغیرہ  کے حساب کا شریعت میں کوئی اعتبار نہیں ہے۔

 فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144507100582
تاریخ18-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں