بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں تکرار فاتحہ سے سجدۂ سہو کا حکم

سوال

کیا نماز میں تکرار فاتحہ سے سجد سہو واجب ہوتا ہے؟

جواب

اگر فرض نماز کی ابتدائی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ ایک ساتھ دو بار پڑھ لی تو سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے، لیکن اگر سورۂ فاتحہ کے بعد کوئی سورت پڑھی پھر سورۂ فاتحہ دوبارہ پڑھ لی یا فرض کی تیسری یا چوتھی رکعت میں سورۂ فاتحہ مکرر پڑھی تو سجدۂ سہو واجب نہیں ہوتا۔اسی طرح نوافل میں تکرارِ فاتحہ سے سجدۂ سہو واجب نہیں ہوتا۔

تبیین الحقائق میں ہے:

"ولو كررها [ أي الفاتحة] في الأوليين يجب عليه سجود السهو؛ لأنه أخر واجبا، وهو السورة بخلاف ما لو أعادها بعد السورة أو كررها في الأخريين".

(كتاب الصلاة، باب سجود السهو، 1/ 193، ط:دار الكتاب الإسلامي)

مجمع الانہر میں ہے:

"وفيه إشعار بأنه لو كرر واجبا لم يجب السهو لكن في الخزانة وغيره أن تكرار الفاتحة في الأوليين يوجب السهو ويمكن أن يقال: إن التكرار لم يوجب بل ترك السورة فإنها تجب أن تلي الفاتحة وينبغي أن يقيد ذلك بالفرائض لأن تكرار الفاتحة في النوافل لم يكره كما في القهستاني".

(كتاب الصلاة، باب سجود السهو، 1/ 148، ط: دار إحياء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507100530
تاریخ17-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں