بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زرنش نام رکھنا

سوال

میں اپنی بیٹی کا نام زرنش رکھنا چاہتا ہوں، یہ نام رکھنا ٹھیک ہے یا نہیں؟

جواب

’’زرنش‘‘:   یہ عربی یا اردو لفظ نہیں ہے، اورعربی اور اردو لغات میں  اس کا معنی نہیں مل سکا۔البتہ مسیحی کتب میں اس کا معنی "الرجل العابس" ملتا ہے،  یعنی ترش رو شخص۔  اس لحاظ سے یہ نام رکھنا درست نہیں ہے۔

واضح رہے کہ  بچوں کے نام رکھنے میں اصل یہ ہے کہ ایسے نام رکھے جائیں جو اللہ اور اس کے رسول کے پسندیدہ ناموں میں سے ہوں، یا انبیاء کرام، صحابہ کرام اور صحابیات کے ناموں میں سے ہوں یا وہ ایسے بامعنی نام ہوں جو عموماً مسلمانوں میں رکھے جاتے ہوں۔ 

مزید رہنمائی کے لیے ہماری ویب سائٹ  اسلامی نام   ملاحظہ فرمائیں :

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"أحب الأسماء إلى الله تعالى عبد الله وعبد الرحمن لكن التسمية بغير هذه الأسماء في هذا الزمان أولى لأن العوام يصغرون هذه الأسماء للنداء والتسمية باسم يوجد في كتاب الله تعالى كالعلي والكبير والرشيد والبديع جائزة لأنه من الأسماء المشتركة ويراد في حق العباد غير ما يراد في حق الله تعالى كذا في السراجية.

وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط."

(کتاب الکراهية، الباب الثاني والعشرون في تسمية الأولاد وكناهم والعقيقة، ج:5، ص:362، ط:رشيدية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144507100518
تاریخ17-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں