بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تدفین کے بعد قبر پر اذان دینے کا حکم

سوال

میّت کو قبر میں اُتارنے کے بعد اذان دی جاتی ہے،شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

تدفین کے بعد دعا کرنا  تو شرعاً ثابت اور جائز ہے، لیکن تدفین کے بعد قبر پر اذان دینا  شریعت میں ثابت نہیں،  بلکہ   بدعت ہے، اس سے اجتناب ضروری ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"قيل: وعند إنزال الميت القبر قياسًا على أول خروجه للدنيا، لكن رده ابن حجر في شرح العباب."

(الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)، 1 / 385، ط: سعيد)

 امداد الفتاوی جدید  436-11:

’’علماء نے اس کو رد کیا ہے:"کما في ردالمحتار أول باب الأذان، قیل: وعند إنزال المیت القبر قیاساً علی أول خروجه للدنیا، لکن رده ابن حجر في شرح العباب".
بالخصوص جب کہ عوام اس کااہتمام والتزام بھی کرنے لگیں،کما هو عادتهم في أمثال هذه  کہ التزام مالا یلزم سے مباح بلکہ مندوب بھی منہی عنہ ہو جا تا ہے۔"کما صرّح به الفقهاء وفرعوا علیه أحکاماً."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507100225
تاریخ15-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں