بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک سے لون لینے کا حکم

سوال

 نیشنل بینک پاکستان سے لون لینے کا کیا حکم ہے ؟

جواب

نیشنل بینک پاکستان سے سودی قرض لینا سودی معاملہ ہونے کی وجہ سے ناجائزاور حرام ہے ،اور اگر بلاسودی قرض مل جائے تو لینا جائز ہے،اور بلاسودی کا مطلب یہ ہے کہ جتنا قرض لیا ہے اتنا ہی واپس کرنا پڑے کسی بھی وجہ سے اس میں اضافہ نہ ہو۔

تنویر الأبصار ميں ہے:

"هو فضل خال عن عوض مشروط لاحد المتعاقدين في المعاوضة"

(رد المحتار، كتاب البيوع ،باب الربا،ج:5،ص:168،ط:سعید)

تنویر الأبصار ميں ہے:

"وفی الأشباه كل قرض جر نفعا حرام"

(رد المحتار، كتاب البيوع ، فصل في القرض ،ج:5،ص:166،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507100183
تاریخ14-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں