بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 جُمادى الأولى 1448ھ 22 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبر پر چادر چڑھانا

سوال

میرے ایک عزیز کی وفات کے بعد اس کے بیٹے نے کچھ عرصہ بعد ان کی قبر پر چادرڈال  دی ہے۔ اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں کہ شریعت مطھرہ کیا کہتی ہے اور کیا اس چادر کوہٹادینا بہتر رےگا۔

جواب

 قبروں پر چادر چڑھانا سلفِ صالحین سے کسی بھی زمانہ میں ثابت نہیں ہے، بلکہ یہ  بدعت ہے، لہذا قبروں پر چادر چڑھانا مکروہِ تحریمی اور ناجائز ہے، لہذا چادر ڈالنے والے کو چاہیے کہ قبر سے چادرکو ہٹا دے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قال في فتاوى الحجة: وتكره الستور على القبور."

(فصل في اللبس، ج:6، ص:363، ط:ايچ ايم سعيد)

معارف السنن میں ہے:

"اتفق الخطابي و الطرطوشي و القاضي عیاض علی المنع، وقولہم أولیٰ بالاتباع حیث أصبح مثل تلك المسامحات والتعللات مثاراً للبدع المنکرۃ و الفتن السائرۃ، فتری العامة یلقون الزهور علی القبور ..." الخ

(معارف السنن، کتاب الطهارۃ، باب التشدید في البول، ج:، ص:265، ط:اي ايم سعيد)

حدیث شریف میں ہے:

"قال رسول اللہ ﷺ … وشرّ الأمور محدثاتھا وکل بدعة ضلالة."

(مسند أحمد بن حنبل، رقم الحدیث: ۱۴۳۸۶، ج:3، ص:310، ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507100176
تاریخ14-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں