بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکات کی رسید میں وکیل اپنا نام لکھوادے

سوال

 عبداللہ عمران کو پیسے دیتا ہے کہ یہ پیسے زکوۃ کے ہیں اور جا کے تم کسی ادارے میں زکوۃ جمع کرا دو تو عمران اس زکوۃ جمع کراتے ہوئے ادارے سے لی ہوئی رسید کے اوپر اپنا نام اگر لکھوا دے تو کیا عبداللہ کی زکوۃ ادا ہو گئی یا وہ عبداللہ کو زکوۃ دوبارہ جمع کروانی پڑے گی۔

جواب

زکاۃ کی  ادائیگی  کے لیے نیت  کاہو نا  شرط ہے   تو جب  عبد اللہ نے زکاۃ  کی نیت سے پیسے عمران کو پیسے  دیے  اور  رسید پر عمران نے اپنا نام لکھوا دیا تو  عبد اللہ کی زکاۃ  ادا ہو گئی ، دوبارہ ادا کر نے کی ضرور ت نہیں ہے ۔ 

فتاوى  ہندیہ میں ہے :

'' ومن أعطى مسكيناً دراهم وسماها هبةً أو قرضاً ونوى الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح، هكذا في البحر الرائق ناقلاً عن المبتغى والقنية''.

(كتاب الزكاة،الباب الاول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها،1/ 171،دار الفكر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507100115
تاریخ13-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں