بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ترکہ میں غلاف کعبہ کا ہونا

سوال

والدہ مرحومہ کے ترکے میں غلاف کعبہ کا ٹکڑا ہے، اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ غلافِ کعبہ ایک مقدس اور بابرکت کپڑا ہے،اگر  مذکورہ کپڑا اتنی مقدار میں ہے کہ اس کو سب ورثاء میں تقسیم کیا جاسکتا ہے تو سب میں تقسیم کر دیاجائے،  اور اگر قابلِ تقسیم نہیں تو سب ورثاء کی رضامندی سے ایک وارث کو  بطور تبرک بھی دیا جاسکتا ہے۔اور اگر اس پر اتفاق نہیں ہوتا ہو تو پھر مشترک ہی رکھا جائے، اور باہمی مشاورت سے کسی ایک کے پاس رکھا جائے۔

شرح المجلہ میں ہے :

" کما تكون أعيان المتوفي المتروكة  مشتركة بين الورثة علي حسب حصصهم."

(كتاب الشركة، الفصل الثالث، ج: 1 ص: 484 ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507100095
تاریخ13-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں