عضو مخصوص سے غیر ضروری کھال مکمل کاٹ کر علیحدہ نہ کرنے کی صورت میں ختنہ کا کیا حکم ہے؟
سوال
اگر کسی لڑکے کا ختنہ ہوا ہے (لیکن جس نے ختنہ کیا ہے اس نے غیر ضروری گوشت کم کاٹا ہے )اور اب بھی وہ غیر ضروری گوشت ہو تو کیا وہ ختنہ صحیح ہوا ہے ؟
جواب
صورت مسئولہ میں اگر عضو مخصوص کی غیر ضروری کھال کی اکثر مقدار یعنی نصف سے زائد کاٹ لی گئی ہے،اور معمولی مقدار باقی رہ گئی ہے تو ختنہ کی سنت ادا ہوگئی ، لیکن اگر عضو مخصوص کی غیر ضروری کھال معمولی مقدار میں کاٹی گئی ہے؛یعنی نصف یا نصف سے بھی کم ، اور اکثر مقدار یعنی نصف یا نصف سے زیادہ باقی ہے، تو اس صورت میں ختنے کی سنت ادا نہیں ہوئی، بلکہ دوبارہ ختنہ کروانا ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"غلام ختن فلم تقطع الجلدة كلها فإن قطع أكثر من النصف يكون ختانا وإن كان نصفا أو دونه فلا كذا في خزانة المفتين."
(كتاب الكراهية،الباب التاسع عشر في الختان والخصاء وحلق المرأة شعرها ووصلها شعر غيرها،357/5، رشیدیة)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

