بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فالج میں تکلیف کی وجہ سے تیمم کرنا

سوال

 میرے ابو کو فالج ہواہے ، اور وہ نماز کا وضو کرتے ہیں تو ان کو تکلیف ہوتی ہے،  کیا وہ تیمم کرسکتے ہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  اگر  وضو میں پانی کے استعمال کرنے کی صورت میں خدانخواستہ آپ کے والد کی  جان یا کسی عضو کے تلف ہونے کا خطرہ ہے یا مرض بڑھنے یا تاخیر سے شفا یاب ہونے کا اندیشہ ہے تو تیمم کی اجازت ہوگی۔

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله: أو لمرض) يعني يجوز التيمم للمرض وأطلقه، وهو مقيد بما ذكره في الكافي من قوله بأن يخاف اشتداد مرضه لو استعمل الماء فعلم أن اليسير منه لايبيح التيمم، وهو قول جمهور العلماء إلا ما حكاه النووي عن بعض المالكية، وهو مردود بأنه رخصة أبيحت للضرورة ودفع الحرج، وهو إنما يتحقق عند خوف الاشتداد والامتداد ولا فرق عندنا بين أن يشتد بالتحرك كالمبطون أو بالاستعمال كالجدري أو كأن لا يجد من يوضئه ولا يقدر بنفسه اتفاقا، وإن وجد خادما كعبده وولده وأجيره لا يجزيه التيمم اتفاقا كما نقله في المحيط، وإن وجد غير خادمه من لو استعان به أعانه ولو زوجته فظاهر المذهب أنه لا يتيمم من غير خلاف بين أبي حنيفة وصاحبيه كما يفيده كلام المبسوط والبدائع وغيرهما." 

(ج:1، ص:147، ط:دار الکتاب الاسلامی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507100011
تاریخ12-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں