بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فورسیج زون کے ذریعے پیسے کمانے کا حکم

سوال

فورسیج زون جو پاکستان کی کمپنی ہے وہ حرام ہے یا حلال کیا ہم اس سے پیسے کما سکتے ہیں؟

جواب

 واضح رہے کہ(forsage) فورسیج آن لائن کمپنی كا جو طریقہ کار  ہے اس میں شرعًا دو خرابیا ں پائی جاتی ہیں، ایک تو اس میں جوا پایا جاتا ہے کہ کمپنی  جوائن کرنے کے لیے کچھ رقم جمع کرنی پڑتی ہے،  کمپنی جوائن کرنے کے  بعدممبر کو پیسے  تب  ملتے ہیں  جب وہ  کسی اور کو ممبر بنائےگا ورنہ ممبر کو  پیسے نہیں ملیں گے،  دوسری خرابی یہ  ہےکہ حقیقت میں اس کمپنی کا کوئی کاروبار نہیں ہے، بل کہ ممبر سازی کے ذریعے  کمیشن در کمیشن کاروبار چلانا  اصل مقصد ہے؛    لہذا صورت مسئولہ میں  مذکورہ کمپنی کے ذریعے پیسے کماناجائز نہیں ہے۔

قرآن کریم میں ہے:

" يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ."(سورة المائدة: 90)

فتاوی شامی میں ہے:

"لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص."

(کتاب الحظر و الاباحة، فصل فی البیع، ج:6، ص :403 ط : سعید)

کشف الاسرار للبزودی میں ہے:

"....لأن المعاوضات المحضة لا تحتمل التعليق بالخطر؛ لما فيه من معنى القمار."

(باب حروف الجر، معنى على، ج:2، ص:173، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506102793
تاریخ11-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں