بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرغی کے اذان دینے کی وجہ سے اسے ذبح کرنے کا حکم

سوال

اگر مرغی(مؤنث) اذان دے تو کیا اس کو ذبح کر دینا چاہیے؟

جواب

واضح رہے کہ مرغی  کے اذان  دینے  کے متعلق  لوگ   مختلف قسم کے  توہمات  کے شکار  ہیں کہ   یہ مرغی منحوس ہے نیز اگر اس مرغی کو ذبح نہ کیا جائے تو اس گھر میں کوئی نہ کوئی آفت ضرور آجاتی ہے؛اس لیے وہ اس مرغی کا ذبح ضروری سمجھتے ہیں ، جب کہ اس بات کا شریعت  سے کہیں بھی ثبوت نہیں ہے ، اس لیے صورتِ مسئولہ میں اگر مرغی کبھی اذان دے تو نہ اس میں  نہ کوئی نحوست کی بات ہے اور نہ  اس کا ذبح کرنا شرعاً ضروری نہیں ،بلادلیلِ شرعی  غلط قسم کے    نظریات وتوہمات  سے  اپنے قلب وذہن کو منزہ رکھنا چاہیے۔

مسندِ احمد میں ہے:

 حدثنا عفان حدثنا أبو عوانة عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " ‌لاطيرة، ولا عدوى، ولا هامة، ولا صفر"، قال: فقال رجل: يا رسول الله، إنا لنأخذ الشاة الجرباء فنطرحها في الغنم فتجرب؟، قال: "فمن أعدى الأول."

(ج:3، ص:321، رقم الحدیث:3032، ط:دارالحدیث ۔القاھرة)

فتاویٰ محمودیہ میں اس قسم کے ایک سوال کے جواب میں ہے:

"یہ کوئی نحوست کی بات نہیں،اس مرغی کو پالنا، اس کا انڈااستعمال کرنا، اس کا گوشت استعمال کرنا سب درست ہے۔

(ج:18، ص:236، ط:ادارۃ الفاروق کراچی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506102758
تاریخ11-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں