بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تصویر کو پھاڑنے کا حکم

سوال

اگر کسی شخص نے کسی جاندار کی تصویر بنائی اور پھر اس کو احساس ہوا کہ یہ میں نے غلط کام کیا ہے، تو اب جو تصویر وہ بنا چکا ہے، اس تصویر کا کیا کرے، یعنی اس کو پھاڑ دے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جاندار کی تصویر کوپھاڑنا  چاہیے، البتہ پھاڑنے کے بعد اورتصویر  کی ہیئت (چہرہ اور سر) ختم کرکے اسے  استعمال میں لاسکتے ہیں۔

مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"(وعنها-عائشة رضي الله عنها- أنها كانت اتخذت على سهوة لها سترا فيه تماثيل، ‌فهتكه النبي صلى الله عليه وسلم فاتخذت منه نمرقتين، فكانتا في البيت، يجلس عليهما. متفق عليه)... فهتكه النبي صلى الله عليه وسلم : أي نزع الستر وخرقه. قال النووي: أي قطع وأتلف الصورة التي فيه."

(كتاب اللباس، باب التصاوير،الفصل الأول، ج:7، ص:2851، ط:دار الفكر بيروت)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506102753
تاریخ11-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں