بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سستی دوا خرید کر اصل قیمت پر بیچنا

سوال

میں دواؤں کا کاروبار کرنا چاہتا ہوں، لیکن دوا دو طریقہ طریقے سے مارکیٹ میں دستیاب ہے، ایک تو کمپنی براہ راست دیتی ہے اور وہی دوا مارکیٹ میں کم قیمت  میں بھی ملتی ہے کم قیمت ہونے کی وجہ یہ ہے یا تو وہ سیل ریپریزنٹس  سستے داموں بیچ کر اپنی سیلز کی ٹارگٹ کو پورا کرتے ہیں یا پھر کسی اور طریقے سے سستے داموں اس ایک شہر سے دوسرے شہر میں بیچی جاتی ہے مارکیٹ کمپٹیشن کی وجہ سے لوگ سستی دوا خرید کر اس کو اصل قیمت پر بیچتے ہیں کیا ہول سیل یا ریٹیل کی دکان پر سستی دوا خرید کر اس کو پوری قیمت پر بیچنا صحیح ہے؟

جواب

جب ایک شخص کوئی چیز خرید لیتا ہے، تو وہ اس کا مالک بن جاتا ہے، پھر اس کے بعد اسے اختیار ہے کہ وہ کم قیمت پر بیچے یا زیادہ قیمت پر بیچے، اگر خرید و فروخت کرنے والے (یعنی بائع اور مشتری)  ایک قیمت پر راضی ہوجائیں، تو اس قیمت پر معاملہ کرنا درست ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں کم قیمت پر دوا خرید کر اس کی اصل قیمت پر بیچنا جائز ہے۔

ہدایہ میں ہے:

"قال: "ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما" لإطلاق قوله تعالى: {وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا} [البقرة:275]."

(كتاب البيوع، ج:3، ص:24، ط:دار احياء التراث العربي)

بدائع الصنائع میں ہے:

"للمالك ‌أن ‌يتصرف في ملكه أي تصرف شاء."

(كتاب الدعوى، ج:6، ص:264، ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506102716
تاریخ11-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں