بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک مسجد کی اشیاء دوسری مسجد میں استعمال کرنا

سوال

ایک مسجد کی اشیاء دوسری مسجد میں استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مسجد کے لیے وقف کردہ  اشیاء کو صرف اسی  مسجد میں خرچ   کرنا ضروری ہے، البتہ مسجد میں جو  اشیاء ہیں  اگر ان کی اس مسجد میں ضرورت نہ ہو تو اشیاءدینے والوں کی اجازت سے اس اشیاءکو دیگر  مساجد کے مصارف میں استعمال کرنا درست ہوگا،اگر ان  سے اجازت لینا ممکن نہ ہو یا وہ اجازت نہ  دیں، یا وہ اجازت تو دے دیں لیکن اس مسجد میں اشیاء کی ضرورت ہو  تو پھر     اُن اشیاء کو  اسی  مسجد کے مصارف میں ہی  استعمال کرنا ضروری ہے، کسی دوسری مسجد میں صرف کرنا جائز نہیں ہوگا۔ 

"رد المحتار" میں ہے: 

"فإن ‌شرائط ‌الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع وهو مالك، فله أن يجعل ماله حيث شاء ما لم يكن معصية وله أن يخص صنفا من الفقراء...الخ"

(كتاب الوقف، مطلب ‌شرائط ‌الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع، ج:4، ص:343، ط:ايچ ايم سعيد)

و فیه ایضاً:

"(اتحد الواقف والجهة وقل مرسوم بعض الموقوف عليه) بسبب خراب وقف أحدهما (جاز للحاكم أن يصرف من فاضل الوقف الآخر عليه) لأنهما حينئذ كشيء واحد، (وإن اختلف أحدهما) بأن بنى رجلان مسجدين أو رجل مسجدا ومدرسة ووقف عليهما أوقافا (لا) يجوز له ذلك.

(قوله: لا يجوز له ذلك) أي أي الصرف المذكور، لكن نقل في البحر بعد هذا عن الولوالجية مسجد له أوقاف مختلفة لا بأس للقيم أن يخلط غلتها كلها، وإن خرب حانوت منها فلا بأس بعمارته من غلة حانوت آخر؛ لأن الكل للمسجد ولو كان مختلفا لأن المعنى يجمعهما اهـ ومثله في البزازية تأمل."

(كتاب الوقف، ج:4، ص:360-361، ط:ايچ ايم سعيد)

احسن الفتاوی  میں ہے:

"مسجد کادوسری قسم کا سامان جس میں کوئی دخل نہیں ،جیسے چٹائی اور فانوس وغیرہ اسے آلات المسجد کہاجاتاہے،اس کاحکم یہ ہے کہ اگر اس مسجد میں ضرورت نہیں تو اس کا دوسرے مسجد کی طرف منتقل کرنا جائز ہے بشرطیکہ واقف بھی اجازت دے ،اس لیے کہ ایسا سامان بوقت استغناء ملک واقف میں عود کرآتاہے؛لہذا واقف کا اذن ضروری ہے۔"

(کتاب الوقف،باب المساجد،ج:6،ص:427،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506102639
تاریخ10-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں