بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی کے موقع پر کلاہ پہننے کا حکم

سوال

ایک بندہ اپنی شادی پر کلہ (مخصوص طرز کا عمامہ جو شادی بیاہ میں پہنا جاتا ہے) نہیں باندھ رہا اس کا کہنا ہے کے یہ ہندوانہ رسم ہے پگڑی (عمامہ) اور ٹوپی پہننے میں اسے کوئی مسئلہ نہیں ہے، اس بات کا کیا حکم ہے؟ اور اگر کوئی اس پر زور ڈالے کہ یہ رسم ہے تو وہ پہن لے؟

جواب

شادی کے موقع پر مخصوص طرز کا کلاہ پہننا اگر شادی کی ہندوانہ رسموں میں سے ہے تو پھر اس سے اجتناب لازم ہے اور اگر ہندوانہ رسموں میں سے نہیں ہے تو پھر اس کے پہننے کی گنجائش ہوگی، اسلام میں شادی کے لیے کوئی خاص لباس مخصوص نہیں ہے۔

مشكاة المصابيح میں ہے:

"و عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ‌تشبه بقوم فهو منهم» . رواه أحمد وأبو داود."

(کتاب الباس،الفصل الثانی،2/ 1246،ط:المكتب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506102549
تاریخ10-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں