بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکوٰۃ واجب ہونے کے بعد قرض کی بسبب ساقط نہیں ہوتی ہے

سوال

اگر کسی پر پہلے سے  مال تجارت یاکاشت کاری کی وجہ سےمستقل زکاۃ واجب ہو ئی،پھراس پر اچھا خاصا قرض آگیا،تو کیا زکاۃ ادا کرنااس کے ذمے ہے یا قرضوں کی وجہ سے زکاۃ کم ہوجائےگی یا ساقط ہوجائے گی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں زکاۃ واجب ہونے کے بعد اگر زکاۃ ادا نہ کرے پھر مال کم ہوجائے یا مقروض ہوجانے سے وہ فرض ساقط نہیں ہوتابلکہ فرض اپنے ذمہ رہتاہے،لہٰذا جیسے ہی رقم آئے ادا کرنا لازم ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(و سببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول؛ لحولانه عليه (تام).....(فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) سواء كان لله كزكاة وخراج أو للعبد، ولو كفالة أو مؤجلا..... وهذا إذا كان الدين في ذمته قبل وجوب الزكاة، فلو لحقه بعده لم تسقط الزكاة لأنها ثبتت في ذمته فلا يسقطها ما لحق من الدين بعد ثبوتها جوهرة."

(کتاب الزکوٰۃ، ج:2، ص:259، ط:سعید)

احسن الفتاویٰ میں ہے:

سوال:جس کے پاس نصاب زکوٰۃ ہے مگر اسی قدر یااسے زائد اس پر قرض بھی ہے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟

الجواب ومنه الصدق والصواب:

اگر قرض سے فارغ مال حدِ نصاب تک نہیں پہنچتا تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں،البتہ اگر وجوب زکوٰۃ کے بعد قرض ہوگیاتواس سے زکوٰۃ ساقط نہ ہوگی۔

(زیرعنوان:قرض سے فارغ نصاب نہ ہو تو زکوٰۃ فرض نہیں، کتاب الزکاۃ، ج:4، ص:260، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506102376
تاریخ08-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں