بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امير سليمان نام ركهنے كا حكم

سوال

کیا میں اپنے بچے کا نام أمیر سلیمان رکھ سکتا ہوں ؟اس لیے کہ میرے بڑے بیٹے کا نام أمیر حمزہ ہے ۔

جواب

"امیر" کا معنی بادشاہ ،شہزادہ،شاہی گھرانے کے فرد کے آتے ہیں ،اور سلیمان علیہ السلام  مشہور  نبی ہیں جن کو اللہ تعالی ایسی سلطنت عطا کی تھی جو پہلے کسی کو ملی اور نہ آئندہ ملے گی ،پس اس لحاظ سے امیر سلیمان نام رکھنا درست ہے ،البتہ صرف سلیمان نام رکھنا زیادہ موجب برکت ہے ۔

المعجم الوسیط میں ہے:

"(الأمير) من يتولى الإمارة ومن ولد في بيت الإمارة (ج) أمراء والمشاور وأمير المؤمنين لقب لخليفة المسلمين."

(باب الہمزۃ،ج:1،ص:26،ط:دار الدعوۃ)

الفتاوى الهندية" میں ہے:

"«وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله صلى الله عليه وسلم و لا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لايفعل، كذا في المحيط."

(کتاب الکراہیۃ ،باب ثانی و عشرون ج،5، ص 362،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144506102315
تاریخ07-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں