بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پانی کی عدم موجودگی میں کپڑوں کی پاکی کا حکم

سوال

اگر احتلام ہوجائے پانی موجود نہ ہو تو تیمم کرنا پڑتا ہے، میرا سوال یہ ہے کہ کپڑوں میں ناپاکی لگی ہو تو ناپاکی کے ساتھ تیمم کرے یا کپڑے میں لگے نا پاکی کو مٹی یا پانی سے صاف کرے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر کسی کے پاس نماز کی ادائیگی کے واسطے ستر چھپانے کے لیے ناپاک کپڑے کے علاوہ کوئی پاک کپڑانہ ہو،اور  ناپاک کپڑادھونے کے لیے  پانی نہ ہو،اورنماز کے آخری وقت میں  ایک میل دوری تک کے فاصلےپر پانی ملنے کی کوئی امید نہ ہو تو      تیمم کر کےناپاک  کپڑے کے ساتھ نماز پڑھ لے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(‌قوله: ‌ويطهر ‌خف ‌ونحوه) احتراز عن الثوب والبدن؛ فلا يطهران بالدلك إلا في المني؛ وتمامه في البحر."

(كتاب الطهارة، باب الأنجاس، ج:1 ص:309 ط: سعید)

وفیہ ایضاً:

"(‌وإذا ‌لم ‌يجد) المكلف المسافر (ما يزيل به نجاسته) أو يقللها لبعده ميلا أو لعطش (صلى معها) أو عاريا (ولا إعادة عليه)."

(كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، مطلب في ستر العورة، ج:1 ص:413 ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506102246
تاریخ07-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں