بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بائع کا مبیع کی قیمت میں کمی کرنے کا حکم

سوال

 میرا کاروبار دیہاتی علاقوں میں ہے،  ہم کپاس، جوار،  گندم وغیرہ  خریدتے   ہیں، معاملہ اس طرح ہوتا ہے کہ  اگر کسی شخص  سے  ہم کپاس کا ایک من  خریدتے ہیں  تو اس کو 38 کلو( ایک من میں دو کلو کم ) کے پیسے دیتے ہیں،دو کلو کے پیسے ہم کاٹتے ہیں ، اور اس کو بتادیتے ہیں کہ ہم ایک من میں دو کلو کے پیسے کم دیتے ہیں، یہی ہمارے گاؤں میں  رواج ہے ،کیا اس طرح  کٹوتی کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ معاملہ میں ایک من کی قیمت متعین ہوچکی ہو اور پھر خریدار دوکلو کے پیسے کاٹتا ہے تو اگر بیچنے والا اس کٹوتی پر راضی ہو اور بلا جبر وہ چھوڑتا ہو تو جائز ہے،ورنہ ناجائز ہے، دو کلو کی قیمت خریدار کے ذمہ میں رہ جائے گی دنیا میں ادا نہیں کرے گا تو آخرت میں ادا کرنا پڑے گا۔

البنایہ شرح الہدایہ میں ہے:

"(ويجوز للبائع أن يزيد المشتري في المبيع ‌ويجوز ‌أن ‌يحط عن الثمن) ش: زيادة البائع للمشتري في المبيع جائزة ما دام المبيع قائما لأن المعقود عليه ما دام قائما كان العقد قائما لقيام أثره وهو الملك المستفاد في العين فإذا هلك لم تصح الزيادة لأن العدم لا يصح تغييره بخلاف الحط فإنه يصح بعد هلاك المعقود عليه، فإنه لو أمكن أن يجعل تغييرا للعقد بأن كان العقد قائما جعل تغييرا وإن لم يكن جعله تغييرا كما في حالة الهلاك جعل برءا عن الدين فصح الحط في الحالين."

(كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية،ج:8، ص:254، ط: دارالكتب العلمية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506102070
تاریخ04-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں