بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا حاملہ عورت کے ساتھ پچھلے راستے وطی کرسکتے ہیں؟

سوال

بچہ دودھ پیتا ہے اور وقفے کے حساب سے کنڈم ختم ہو گئے تھے، تو کیا میں اہلیہ سے ہمبستری کے دوران پیچھے کے راستے داخل کر سکتا ہوں یا بالکل منع ہے یا کوئی اس صورت میں گنجائش ہے؟ 

جواب

واضح رہے كہ شریعت اسلامیہ میں  پیچھے کے راستے میں  وطی كرنا ہر حال ميں حرام ہے،حدیث شریف میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم )نے  بیوی کے ساتھ پیچھے کے راستے سے ہم بستری کرنے سے منع فرمایا ہے، اور  ایسا فعل کرنے والے پر حدیثِ مبارک میں لعنت اور سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،اور  یہ فعل شرعاً و عرفاً انتہائی قبیح اور شرم ناک  ہے اور اس کا کرنے والا  سخت گناہ گار ہے، اس پر لازم ہے کہ صدق دل سے  اپنے اس فعل پر  فوراً  توبہ کرے اور آئندہ اس فعل سے باز رہے۔

الجوهرۃ النيرۃ میں ہے:

وأما الوطء في الدبر فحرام في حالة الحيض والطهر لقوله تعالى {فأتوهن من حيث أمركم الله} [البقرة: 222] ، أي من حيث أمركم الله بتجنبه في الحيض وهو الفرج، وقال - عليه السلام - إتيان النساء في أعجازهن حرام وقال ملعون من أتى ‌امرأة ‌في ‌دبرها، وأما قوله تعالى {فأتوا حرثكم أنى شئتم} [البقرة: 223] أي كيف شئتم ومتى شئتم مقبلات ومدبرات ومستقلبات وباركات بعد أن يكون في الفرج ولأن الله تعالى سمى الزوجة حرثا فإنها للولد كالأرض للزرع، وهذا دليل على تحريم الوطء في الدبر؛ لأنه موضع الفرث لا موضع الحرث."

(كتاب الطهارة،باب الحيض، ج:1، ص:30، ط:المطبعة الخيرية مصر)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506102042
تاریخ04-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں