بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی شدہ مردوں کا دوسروں کی بیوی کو دیکھنے کا کیا حکم ہے؟

سوال

شادی شدہ مردوں  کا دوسروں  کی بیوی کو  دیکھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے نامحرم  عورت  سے پردہ شرعاً لازم ہے، لہٰذا  نامحرم عورت کو قصداً دیکھنا یا بلا ضرورت بات چیت کرنادرست نہیں ہے، خواہ وہ دوسرے کی بیوی ہو یا غیر شادی شدہ ہو یا مطلقہ یا بیوہ۔لہذا صورت مسئولہ میں شادی شدہ مرد کا  دوسروں کی بیوی دیکھنا ناجائز  ہے۔ 

قرآن مجید میں ہے:

"قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ  ذٰلِك اَزْكى لَهُمْ اِنَّ اﷲَ خَبِيْرٌ  بِمَا يَصْنَعُوْنَ." [النور : 30]

ترجمہ : "آپ مؤمن مردوں سے فرما دیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں، یہ ان کے لیے بڑی پاکیزہ بات ہے، بے شک اللہ ان کاموں سے خوب آگاہ ہے جو یہ انجام دے رہے ہیں۔"

أحكام القرآن  للجصاص ميں هے:

"عن أم سلمة قالت: "لما نزلت هذه الآية: {يدنين عليهن من جلابيبهن} خرج نساء من الأنصار كأن على رءوسهن الغربان من أكسية سود يلبسنها".

قال أبو بكر: في هذه الآية دلالة على أن المرأة الشابة مأمورة بستر وجهها عن الأجنبيين وإظهار الستر والعفاف عند الخروج لئلا يطمع أهل الريب فيهن."

(باب ذكر حجاب النساء، 3 / 486، ط: دارالكتب العلمية)

فتاوٰی شامی میں ہے:

"(قوله مقيد بعدم الشهوة) قال في التتارخانية، وفي شرح الكرخي النظر إلى وجه الأجنبية الحرة ليس بحرام، ولكنه يكره لغير حاجة اهـ وظاهره الكراهة ولو بلا شهوة (قوله وإلا فحرام) أي إن كان عن شهوة حرم (قوله وأما في زماننا فمنع من الشابة) لا لأنه عورة بل لخوف الفتنة."

(‌‌كتاب الحظر والإباحة،فصل في النظر والمس:370/6 ط: سعید)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506101840
تاریخ02-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں