بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وعدہ توڑنے پر کفارہ کا حکم

سوال

اگر صرف وعدہ کیا ہو قسم نہ کھائے تب وعدہ توڑنے کا کفارہ ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص کسی عذرِ شرعی کے بغیروعدہ توڑدے تو وعدہ توڑنے کی وجہ سے کفارہ تو نہیں ہوگاالبتہ وعدہ خلافی کی وجہ سے وہ اپنے اس فعل کی وجہ سے گناہ گار ہوگا،جس پر توبہ واستغفار کرنا چاہیے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"عن زيد بن أرقم - رضي الله عنه - عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " «إذا وعد الرجل أخاه ومن نيته أن يفي له، فلم يف ولم يجئ للميعاد، فلا إثم عليه» " رواه أبو داود، والترمذي.

 (فلم يف) أي: بعذر (ولم يجئ للميعاد) أي: لمانع (فلا إثم عليه) . قال الأشرف: هذا دليل على أن النية الصالحة يثاب الرجل عليها وإن لم يقترن معها المنوي وتخلف عنها. اهـ. ومفهومه أن من وعد وليس من نيته أن يفي، فعليه الإثم... فإنه من أخلاق المنافقين."

( كتاب الآداب، باب الوعد، ج:7، ص:3069،  ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506101785
تاریخ02-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں