بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دکان کے سامنے ریڑھی لگانے والے سے کرایہ لینے کا حکم

سوال

اپنی ذاتی یا کرایہ کی دکان کے سامنے کسی ریڑھی والے سے کرایہ لینا کیسا ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں دکان دار کا اپنی دکان کے آگے کی جگہ (جو کہ دکان والے کی ملکیت نہیں ہوتی  )   کسی کو کرایہ پر دے کر اس کا کرایہ وصول کرنا شرعاً ناجائز ہے۔

الدر المختار میں ہے :

"(أخرج إلى طريق العامة كنيفا) هو بيت الخلاء (أو ميزابا أو جرصنا كبرج وجذع وممر علو وحوض طاقة ونحوها عيني أو دكانا جاز) إحداثه (وإن لم يضر بالعامة) ولم يمنع منه، فإن ضر لم يحل كما سيجيء."

(کتاب الدیات،ج:6،ص:592،سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506101753
تاریخ01-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں