بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

معمول کی تلاوت میں سورہ کہف کو اس لیے چھوڑ دینا کہ وہ جعہ کے دن پڑھ لی تھی تلاوت کی سنتوں کے خلاف ہے

سوال

اگر کوئی شخص ہر ہفتہ سورۃ الکہف کی تلاوت کرتا ہو اور جب وہ مکمل قرآن مجید پڑھے تو کیا مذکورہ سورۃ کو چھوڑ سکتا ہے؟ کیونکہ اس سورۃ کی تو وہ شخص ہر ہفتہ تلاوت کرتا ہے۔

جواب

واضح رہے کہ مصحف کی ترتیب سے قرآن مجید کی تلات کرنا مسنون ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر معمول کی تلاوت میں جمعہ کے دن سورہ کہف آجائے تو سورہ کہف پڑھنے سے ترتیب کی رعایت بھی ہوجائے گی اور سورہ کہف کے پڑھنے کی فضیلت حاصل ہوجائے گی، لیکن ایسی صورت ہو کہ معمول کی تلاوت میں سورہ کہف جمعہ کے علاوہ دنوں میں آئے تو سورہ  کہف کو اس لیے چھوڑ دینا کہ میں یہ جمعہ کے روز پڑھ چکا، یہ تلاوت کی سنتوں کے خلاف ہے۔ 

التبیان فی آداب حملۃ القرآن میں ہے:

"قال العلماء الاختيار أن يقرأ على ترتيب المصحف فيقرأ الفاتحة ثم البقرة ثم آل عمران ثم ما بعدها على الترتيب وسواء قرأ في الصلاة أو في غيرها ۔۔۔۔ روى ابن أبي داود عن الحسن أنه كان يكره أن يقرأ القرآن إلا على تأليفه في المصحف." 

(الباب السادس فى آداب القرآن، [فصل] قال العلماء الاختيار أن يقرأ على ترتيب المصحف، ص:98، ط:دار ابن حزم للطباعة والنشر والتوزيع)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506101740
تاریخ01-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں