بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چغل خوری کا مطلب اور اس پر وعید

سوال

چغل خوری کا مفہوم؟

جواب

 چغلی خوری کا عام فہم مطلب ہے : لگائی بجھائی کرنا، یعنی ایک کی بات دوسرے تک پہنچانا اور باہم اختلاف پیدا کرنا. احادیث میں اس  پر پر  وعید وارد ہوئی ہیں اور یہ سخت گناہ کبیرہ ہے؛ لہذا اس قسم کے مذموم عمل سےپوری طرح  بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

بخاری شریف میں ہے:

"حدثنا ‌أبو نعيم: حدثنا ‌سفيان، عن ‌منصور، عن ‌إبراهيم، عن ‌همام قال: كنا مع حذيفة فقيل له: إن رجلا يرفع الحديث إلى عثمان، فقال حذيفة: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: ‌لا ‌يدخل ‌الجنة ‌قتات."

(كتاب الأدب، باب ما يكره من النميمة، ج:8، ص:17، رقم:6056، ط:دار طوق النجاة)

صحیح مسلم میں ہے:

"عن عبد الله بن مسعود قال: إن محمدًا صلى الله عليه وسلم قال: ألا أنبئكم ما العضه؟ هى النميمة، القالة بين الناس."

( باب تحريم النميمة ،ج:8، ص:28،   رقم 6802،  ط: دار الجيل ۔بيروت / دار الأفاق الجديدة ـ ۔بيروت)

ترجمہ:

"سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت محمد مصطفي صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں   نہ  بتاؤں ، کہ  ’’العضہ‘‘  کیا ہے ؟ (پھر خود ہی فرمایا کہ:)  وہ چغلی کھانا ہے۔(یعنی ) لوگوں کے درمیان میں( جھگڑے اور  فساد کے لئے) بات کرنا، (ایک کی بات دوسرے کو  پہنچا نا  جس سے وہ آپس میں لڑائی جھگڑے پر اتر آئیں)۔"

فقط واللہ  أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506101570
تاریخ30-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں