بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اسماعیلیوں کے ذبیحہ کے علاوہ دوسری چیزیں کھانے کا حکم

سوال

اسماعیلیوں کے گھر ذبیحہ کے علاوہ کوئی اور چیز بھی کھانا حرام ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ قرابت دار، محلہ دار، شریک کار  یا پڑوسی ہونے کے ناطے کوئی بھی انسا ن اگر اکرام کرے تو اس کے اکرام کو قبول کرنا شرعاً جائز ہے،  البتہ غیر مسلموں یا باطل فرقوں کی مذہبی تقریبات اور مجالس میں شرکت جائز نہیں ہے، اسی طرح اہلِ کتاب کے علاوہ کسی غیر مسلم کا مذبوحہ جانور ہو یا کھانے میں ناپاک چیز ہو تو اسے کھانا بھی جائز نہیں ہے، اس بناء پر اسماعیلیوں  کے ذبیحہ کے علاوہ اگر ان کی دوسری چیزیں  (کھانا وغیرہ) حلال ہو اور اس میں کوئی ناپاک چیز بھی شامل نہ ہو،  تو اس کے کھانے کی گنجائش ہے۔

مبسوطِ سرخسی میں ہے:

"‌ولا ‌بأس ‌بطعام ‌المجوس، وأهل الشرك ما خلا الذبائح، فإن النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يأكل ذبائح المشركين، وكان يأكل ما سوى ذلك من طعامهم، فإنه كان يجيب دعوة بعضهم تأليفا لهم على الإسلام."

(كتاب الأشربة، ج: 24، ص: 27، ط: دار المعرفة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"‌ولا ‌بأس ‌بطعام ‌المجوس كله إلا الذبيحة، فإن ذبيحتهم حرام."

(كتاب الكراهية، الباب الرابع عشر في أهل الذمة والأحكام التي تعود إليهم، ج: 5، ص: 347، ط: دار الفكر)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506101527
تاریخ30-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں