بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زندگی میں وصیت نافذ کرنا

سوال

ا سلم مرض وفات میں وصیت کرتا ہے  اور اسی وصیت کو اپنی حیات میں ہی نافذ کرنا چاہتا ہے تو کیا اسلم کا اپنی  حیات میں وصیت نافذ کرنا درست ہے یا نہیں؟ 

جواب

 وصیت اس کام کو کہتے ہیں جس پر عمل کرنے کا حکم موت کے بعد ہو، یعنی اُس وصیت  پر عمل زندگی میں نہیں بلکہ موت کے بعد ہو؛لہذا زندگی میں جو کوئی صدقہ خیرات کرتا ہے یہ ہبہ کہلاتا ہے ، وصیت نہیں کہلاتا۔

یہ آپ کے سوال کا اصولی جواب ہے، باقی آپ متعین صورت لکھ کر بھیج دیں ، اس کا تفصیلی جواب دیا جائے گا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"الإيصاء في الشرع تمليك مضاف إلى ما بعد الموت يعني بطريق التبرع سواء كان عينا أو منفعة."

(کتاب الوصایا،ج:6،ص:90،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506101432
تاریخ28-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں