بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1448ھ 16 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فیصد کے اعتبار سے کمیشن طے کرنے کا حکم

سوال

میں نے ایک پرفیومر کی ایک ایڈ دیکھی سوشل میڈیا پر جس پر لکھا تھا آپ ہمارے ری سیلر بنیں یعنی آپ ہمارے پرفیوم عطر کو بیچیں آپ آرڈر لیں باقی ڈیلوری ،ریٹن ،واپسی،کوئی پرفیوم ڈیمیج ہو جائے اس کی ذمہ داری ہم پر ہوگی بس آپ آرڈر لیں اور بدلے میں آپ کو ( 20 فیصد کمیشن) دیاجائے گا جس پرفیوم یا عطر کا اپنے آرڈر لیا ہے تو میرا سوال یہ ہے کہ یہ کام کرنا حلال ہے یا حرام ؟

جواب

صورت مسئولہ میں قیمت فروخت کامثلا:20فیصد  وغیرہ کمیشن کے طور پر طے کرنا شرعا جائز ہے، البتہ ہر پرفیوم کو فروخت کرانے پر متعین اجرت مقرر کرنا زیادہ بہتر ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"مطلب في أجرة الدلال [تتمة]

قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة."

(کتاب الاجارہ ،باب الاجارۃ الفاسدۃج6،ص63،ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506101430
تاریخ28-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں