بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رویت ہلال کی شہادت رد ہونے کی صورت میں روزہ کا حکم

سوال

رائی(چاند دیکھنے والے)  کی شہادت رد ہونے کی صورت میں اس کے لیے روزے کا کیا حکم ہے؟

جواب

جو شخص رمضان یا شوال کا چاند خود دیکھ لے اور اس کی شہادت قبول نہ کی جائے تو اس کے لیےیہ حکم ہے کہ وہ روزہ رکھے، روزہ چھوڑنے کی صورت میں قضاء لازم ہوگی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"رجل رأى هلال» رمضان وحده فشهد، ولم تقبل شهادته كان عليه أن يصوم، وإن أفطر في ذلك اليوم كان عليه القضاء دون الكفارة .... رجل رأى هلال الفطر وشهد، ولم تقبل شهادته كان عليه أن يصوم فإن أفطر ذلك اليوم كان عليه القضاء دون الكفارة كذا في فتاوى قاضي خان."

(کتاب الصوم، باب ثانی، ج نمبر ۱، ص نمبر ۱۹۷، دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506101424
تاریخ28-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں