بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز جنازہ میں دوسری تکبیر پر ہاتھ اٹھانے کا حکم

سوال

نماز جنازہ کی دوسری تکبیر کہتے ہی دوسری مرتبہ غلطی سے ہاتھ بلند اور ہاتھ کانوں کی لو تک چلا گیا، کیا نماز جنازہ ہو گئی؟

جواب

حدیث شریف میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ کی نماز میں صرف پہلی تکبیر پر ہاتھ اٹھاتے تھے، اُس کے بعد دوبارہ نہیں اٹھاتے تھے، اس وجہ سے نمازِ جنازہ میں   ہر تکبیر میں ہاتھ اٹھانا  سنت  نہیں،   البتہ اگر کسی نے نمازِ جنازہ کی ہر تکبیر میں ہاتھ اٹھایا تو نماز درست ہو جائے  گی، لیکن قصداًاس طرح نہیں کرنا چاہیے۔

حدیث میں ہے :

"عن ابن عباس ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم «كان يرفع يديه على الجنازة في أول تكبيرة ثم لا يعود»."

(سنن دار قطنی ،کتاب الجنائز ،ض؛2،ص:438،مؤسسۃ الرسالۃ)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"ولا يرفع يديه إلا في التكبيرة الأولى في ظاهر الرواية، كذا في العيني شرح الكنز، والإمام والقوم فيه سواء، كذا في الكافي."

(کتاب الصلاۃ،الباب الحادی والعشرون فی الجنائز ،ج:1،ص:164،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144506101359
تاریخ27-12-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں